←

Masjid ka paisa madrase me kharch karna kaisa hai?

(1) ایک مسجد کی ملکیت دیگر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے یا نہیں؟
(2) مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرے تو درست ہوگا یا نہیں؟

الجواب :
دونوں صورتیں حرام ہیں مسجد جب تک آباد ہے اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صَرف ہو سکتا ہے نہ دوسری مسجد میں ، یہاں تک کہ اگر ایک مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اور دوسری مسجد میں ایک بھی نہ ہو تو جائز نہیں کہ یہاں کی ایک چٹائی یا لوٹا دوسری مسجد میں دے دیں۔ در مختار میں ہے:
اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه جائز للحاكم، ان يصرف عن فاضل الوقف الاخر اليه لانهما حينئذ كشيئ واحد و ان اختلف احدهما بأن بنى رجلان مسجدین اورجل مسجدا و مدرسة و وقف عليهما اوقافالايجوز له ذلك
( در مختار کتاب الوقف 380/1 )
ترجمہ : دو وقفوں کا واقف بھی ایک ہو اور ایک ہی چیز پر وقف ہوں، ان میں ایک کی آمدنی کم ہو جائے تو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی بحث سے اس پر خرچ کرے اس لئے کہ اس حالت میں وہ دونوں گویا ایک ہی چیز ہیں، اور اگر واقف دو ہوں یا جدا جدا چیزوں پر وقف ہوں جیسے دو شخصوں نے دو مسجدیں بنائیں یا ایک شخص نے ایک مسجد اور ایک مدرسہ بنایا اور ان پر جائدادیں وقف کیں تو اب حاکم کو بھی جائز نہیں کہ ایک کا مال دوسرے میں صَرف کرے۔۔    رد المحتار میں ہے :
المسجد لا يجوز نقل ماله الى مسجد اٰخر ۔ والله تعالی اعلم
( رد المحتار كتاب الوقف دار احياء التراث العربي بيروت 371/3 )
ترجمہ : جائز نہیں کہ ایک مسجد کا مال دوسری مسجد کو لے جائیں۔ والله تعالی اعلم

بحوالہ : فتاویٰ رضویہ، جلد 16 ،صفحہ 281